پناہ گزینوں کی درجنوں گاڑیاں حفاظتی اقدام کے طور پر لنڈی کوتل منتقل کر دی گئیں
افغان سرزمین سے دہشتگرد حملوں میں اضافہ افسوسناک، پاکستان نے اقوامِ متحدہ چارٹر کے تحت حقِ دفاع استعمال کیا، ترجمان دفترخارجہ
سیکیورٹی خدشات کے باعث کمرشل اور نجی ڈرون اڑانے پر فوری پابندی عائد کر دی گئی
افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی پاکستان کیخلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف
اسکائی نیوز نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی فضائیہ نے پاکستان کے خلاف حملے کیے ہیں
آپریشن غضب للحق میں اب تک طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 زخمی ہوئے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
“متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور سرحدی علاقوں کے عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا”
ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں فتنہ الخوارج نے چھوٹے ڈرونز کے ذریعے حملے کی کوشش کی
افغانستان کے پاس کوئی فعال لڑاکا طیارہ نہیں اور فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ ان کے پاس 6 پرانے طیارے اور 23 ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔